کیاواقعی 5G ٹیکنالوجی کورونا وائرس پھیلارہی ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

لندن(پاکستان نیوز)برطانیہ کے شہر برمنگھم میں لوگوں نے 5 جی ٹاور کو آگ لگادی اور ان لوگوں کا ماننا تھا کہ فائیو جی نیٹ ورک کے ان ٹاورز سے نکلنے والی تابکاری کورونا وائرس پھیلا رہی ہے۔برطانیہ جیسے ملک میں یہ سازشی نظریہ اس قدر پھیل چکا ہے کہ موبائل نیٹ ورک ٹریڈ باڈی کو بار بار اس کی تردید کرنی پڑ رہی ہے اور لوگوں کو بتانا پڑ رہا ہے کہ فائیو جی نیٹ ورک کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں، اس سے پہلے بھی موبائل فون کی شعاعوں کا صحت پر اثرکے حوالے سے باتیں ہوتی چلی آئی ہیں تاہم کسی تنظیم نے کبھی کوئی چیز واضح نہیں کی اور یہ کہہ دیا جاتاہے کہ سائنس کو ابھی اس بارے میں مزید بہت کچھ کرنا ہے، عمومی طورپر یہی کہا جاتاہے کہ یہ خطرناک شعائیں، چاہے وہ ٹی وی ریموٹ کی ہی کیوں نہ ہوں، خطرناک کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔انٹرنیشنل کمیشن نے بھی اپنی تازہ تحقیق میں واضح کیا کہ مجموعی طورپر 5 جی سے کوئی خطرہ نہیں،تجویز کردہ حدود سے نیچے تک سگنلز رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں جیسا کہ اب تک تمام نیٹ ورکس کررہے ہیں، مختلف ٹیسٹوں کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ برطانیہ میں کام کرنیوالے اکثر نیٹ ورکس تجویز کردہ سطح کے ایک فیصد سے بھی نیچے کام کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں فائیو جی نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جس کا ٹھیکہ چینی کمپنی ’ہواوے‘ کے پاس ہے۔ کمپنی کی طرف سے برمنگھم میں یہ 70فٹ بلند فائیو جی ٹاور لگایا گیا تھا جسے گزشتہ روز نذرآتش کر دیا گیا۔





متعلقہ خبریں

Not Any News

ویڈیو
صحت

چہرے کے کیل مہاسوں سے نجات کے نسخے

دنیا بھر سے چار انتہائی دلچسپ بیوٹی ٹپس

کورونا کچھ لوگوں کو زیادہ متاثر کیوں کرتا ہے؟ معمہ حل

آپکاشہر

ary news live

ary news live

پولیس میں ہزاروں بھرتیاں، چند دنوں میں اشتہار جاری ہونے کا امکان

بلاگ

وہ پاکستانی کرکٹر جس نے ورلڈ کپ کے دوران بھی اپنی بیگم ہوٹل روم کی الماری میں چھپائے رکھی

افغانستان کی قومی ٹیم کا کھلاڑی ’ کرپشن ‘ کرتے پکڑا گیا ، بڑی سزا سنا کر مثال قائم کر دی گئی

پاکستانی کرکٹر عمر اکمل پر پابندی عائد کردی گئی

Copyright 2020 © Pakistan News, All rights reserved.
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited.