میکسیکو کے صدر نے منشیات کے بے تاج بادشاہ ” الچاپو“ کے بیٹے کو ذاتی حیثیت میں رہا کرنے کا حکم دینے کا اعتراف کر لیا

 

میکسیکو سٹی (پاکستان نیوز )میکسیکو کے صدر ” آندریس مینول لوپیز اوبراڈور “ نے انکشاف کیاہے کہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں منشیات کے بے تاج بادشاہ ” جوکن گوزمین“ عرف ” الچاپو“ کے بیٹے ” اویڈو گوزمین “ کو فوجی کارروائی کے دوران مختصر حراست میں رکھنے کے بعد رہاکرنے کا حکم دیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق اس آپریشن کے دوران ہونے والی تباہی کے مناظر کی وجہ سے اکتوبر میں ” لوپیز اوبراڈور “ کی حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس دوران گینگسٹر ” الچاپو “ کے بیٹے ” اویڈیو گوزمین “ کو مغربی ریاست ” سینا لووا“ کے شہر ” کولیاکان“ سے حراست میں لیا گیا تھا لیکن جیسے ہی شہر میں آپریشن شروع ہوا تو منشیات کا کاروبار کرنے والی تنظیم کے سینکڑوں جنگجو شہر میں داخل ہوئے اور انہوں نے فائرنگ کا آغاز کر دیا جبکہ شہر کی مختلف شاہراہوں پر سیکیورٹی فورسز کو شکست دیتے ہوئے کنٹرول سنبھا لیا ۔اس چڑھائی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی الچاپو کے بیٹے کو حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا ۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس وقت الچاپو کے بیٹے کو رہا کیا گیا تھا اس وقت میکسیکو کے صدر نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی سیکیورٹی کابینہ نے ” اویڈ و “ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ، اس وقت انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے دہشت کے شکار لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ۔

تاہم اب میکسیکو کے صدر نے اپنے ایک بیان میں یہ اعتراف کر لیاہے کہ یہ حکم انہوں نے ذاتی حیثیت میں دیا تھا ، ان کا مزید کہناتھا کہ ” شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا جس کے باعث میں نے آپریشن کو روکنے اور اس مبینہ مجرم کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔“

لوپیز اوبراڈور نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ چند دنوں کے بعد مجھے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے منشیات کا کاروبار کرنے والے ” کارٹیل “ (Cartel)پر کریک ڈاﺅن کرنے کی پیشکش کی تھی تاہم میکسیکو کی جانب سے اسے قبول نہیں کیا گیا ۔

واضح رہے کہ الچاپو کو دنیا کا سب سے خطرناک ترین منشیات کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا تھا جو کہ دو مرتبہ پکڑے جانے کے باوجود جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا ۔ اسے سب پہلی مرتبہ 9 جون 1993 میں ایک ملٹری آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا لیکن وہ 19 جون 2001 میں فرار ہو گیا ، اس کے بعد اسے دوسری مرتبہ 22 فروری 2014 میں پکڑ ا گیا لیکن وہ پھر سے 11 جولائی 2015 میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تاہم اسے آخر کار 8 جنوری 2016 میں پھر سے گرفتار کر لیا گیا تھا ۔

 





متعلقہ خبریں

Not Any News

ویڈیو
صحت

چہرے کے کیل مہاسوں سے نجات کے نسخے

دنیا بھر سے چار انتہائی دلچسپ بیوٹی ٹپس

کورونا کچھ لوگوں کو زیادہ متاثر کیوں کرتا ہے؟ معمہ حل

آپکاشہر

ary news live

ary news live

پولیس میں ہزاروں بھرتیاں، چند دنوں میں اشتہار جاری ہونے کا امکان

بلاگ

وہ پاکستانی کرکٹر جس نے ورلڈ کپ کے دوران بھی اپنی بیگم ہوٹل روم کی الماری میں چھپائے رکھی

افغانستان کی قومی ٹیم کا کھلاڑی ’ کرپشن ‘ کرتے پکڑا گیا ، بڑی سزا سنا کر مثال قائم کر دی گئی

پاکستانی کرکٹر عمر اکمل پر پابندی عائد کردی گئی

Copyright 2020 © Pakistan News, All rights reserved.
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited.