41

بورے والا:وزارت پلاننگ کمیشن اور وزارت خزانہ کی طرف سے فنڈز جاری نا ہوسکے

بورےوالا(پاکستان نیوز)بیکس پاکستان ٹیچرز 5ماہ سے تنخواہوں سے محروم اور بچوں کو دو سال سے کتابیں نہیں ملی اور اس سال بھی تعلیمی سال شروع ہو گیا ابھی تک بچوں کو کتابیں نہیں ملی حکومت پاکستان کے لے شرح خواندگی بڑھانا مشکل ہے
وفاقی وزرات تعلیم پیشہ ورانہ تربیت حکومت پاکستان کے پروگرام بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز چلنے والے 12ہزار2سو 4 بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولوں کی ٹیچرز کو پانچ ماہ اور نگران این جی اوز کو 21 ماہ سے تنخواہوں سے محروم،3لاکھ سے زائد بچے کتابیں نہ ملنے کی وجہ سے تعلیم سے محروم،اخراجات نہ ملنے اور این جی اواز سے پارٹنر شپ ختم ہونے سے ہزاروں گھرانے فاقہ کشیوں پر مجبور،اخراجات کی فوری ادائیگی اور پارٹنرشپ بحال کرنے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم کے زیر اہتمام ملک بھر میں این جی اوز کی پارٹنر شپ سے چلنے والے12ہزار 204بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولوں کو حکومت کی طرف سے یکم جولائی 2016سے اب تک مانیٹرنگ فنڈز جاری نہیں کیے گئے کروڑوں روپے کے ان فنڈز کی عدم ادائیگی اور ین جی اوز سے پارٹنر شپ ختم کرنے کے حکومتی اقدام کی وجہ سے جہاں ان سکولوں کی مانیٹرنگ کرنے والے این جی اوز کے سپروائزر کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں وہاں پارٹنر شپ ختم کیے جانے کے بعد ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے اور انکی زیر نگرانی چلنے والی سکولوں کے لاکھوں طلباءو طالبات کا تعلیمی مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا اور ٹیچرز کی ماہانہ تنخواہ کم ازکم 15000ہزار روپے کی جائے بورے والا سمیت ،بیکس پاک این جی اوز نیٹ ورک نے وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس ہائیکورٹ،وفاقی محتسب اعلیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مانیٹرنگ کے اخراجات ،ٹیچرز تنخواہیں،اور
بچوں کو کتابیں فوری دی جائے سکولوں کو چلانے کے لیے این جی اوزپارٹنر شپ بحال کرنے کا مطالبہ کیا
جب بیکس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے کتابیں لیٹ ہے ،ٹیچرز کی تنخواہیں اسی ماہ مارچ میں مل جائیں گی اور این جی اوز کی بحالی کے بیکس سکولوں کی ناممکن ہے وفاق کی طرف سے مسائل ہے ہم نے پانٹرشپ زختم نہیں کی سول سوسائٹی کا کمیونٹی میں اہم کردار ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں