42

“شہباز شریف کا دورہ بورے والا ایک جائزہ”

تحریر : چوہدری اصغر علی جاوید

مسلم لیگ(ن)کی طرف سے آئندہ الیکشن کی تیاری کے سلسلہ میں مختلف شہروں میں جلسوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اُسی سلسلہ میں خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے15فروری کو بورے والا میں عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا اس جلسہ کی تیاریوں اور اسے کامیاب جلسہ بنانے کے لیے پارٹی کی جانب سے ضلع بھر کے ارکان اسمبلی،لیگی عہدیداران،بلدیاتی اداروں کے سربراہان اور انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں جلسہ گاہ میں کارکنان اور ووٹرز کو لانے کے لیے ہر منتخب عوامی نمائندے اور کئی سرکاری محکموں کے افسران کو ٹارگٹ دئیے گئے جبکہ اس جلسہ کے انتظامات کے حوالہ سے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خاں کی قیادت میں پارٹی کے کئی صوبائی راہنماﺅں پر مشتمل ٹیم نے بورے والا آکر ڈیرے ڈال دئیے ارکان اسمبلی کو دئیے گئے ٹارگٹ کے مطابق اپنے دفاتر سے کارکنان جلسہ گاہ تک لانے کا پابند بنایا گیا جنکی نگرانی پر لاہور سے آنے والی ٹیم کا ایک ایک رکن لگا دیا گیا تا کہ چیک کیا جا سکے کہ کون کتنے افراد کو جلسہ گاہ لے کر آیا خادم اعلیٰ پنجاب کے جلسہ کو کامیاب بنانے اور اپنی اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے بلاشبہ ارکان اسمبلی،بلدیاتی نمائندوں،لیگی عہدیداروں،آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند امیدواروں اور سرکاری افسران نے دن رات ایک کئے رکھا اور ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر اس جلسہ کو کامیاب بنایا جلسہ میں کارکنان کو لانے کے لیے ارکان اسمبلی نے اپنے اپنے حلقہ میں کارنر میٹنگز اور کارکنان کے اجلاس بھی بلوائے بورے والا میں مقامی لیگی ایم پی اے چوہدری ارشاد احمد آرائیں کی اس حوالہ سے کاوشیں قابل ذکر ہیں انہوں نے پارٹی قیادت کی طرف سے دئیے گئے 4ہزار افراد کے ہدف سے بڑھ کر اپنے دفتر میں حلقہ کے کارکنان کو جمع کیا اور وہاں سے پیدل ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچے اُن کے جلوس کی آمد سے قبل جلسہ گاہ میں ویرانی کا سماں تھا لیکن اس جلوس کی آمد کے ساتھ ہی جلسہ کی رونقیں بڑھ گئیں جس کا سٹیج پر موجود صوبائی وزیر تعلیم نے بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا چیئرمین بلدیہ چوہدری عاشق آرائیں کی قیادت میں بھی بلدیہ آفس سے جلسہ گاہ تک کارکنوں کے ایک بڑے جلوس نے شرکت کی اسی طرح امیدوار صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی233سردار خالد محمود ڈوگر کی قیادت میں ڈوگر مارکیٹ سے جلسہ گاہ تک ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کارکنان کی ایک ریلی بھی جلسہ گاہ پہنچی اسکے علاوہ دیگر لیگی ارکان اسمبلی اور عہدیداران کی قیادت میں چھوٹی بڑی ریلیوں کی شکل میں کارکنان نے جلسہ گاہ پہنچ کر اسکی رونق میں اضافہ کیا دیکھنا یہ ہے کہ جلسہ کو کامیاب بنانے میں جس طرح ارکان اسمبلی اور لیگی کارکنان نے دن رات محنت کرکے اپنی توانائیاں اور وسائل صرف کیے وہاں خادم اعلیٰ پنجاب نے اپنے خطاب میں کون کون سے اعلانات کیے اور عوام کی توقعات کے مطابق کس حد تک اُنکی محرومیوں کا ازالہ کیا بورے والا میں گذشتہ ساڑھے چار سالوں میں بلاشبہ عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے کئی میگا پراجیکٹ شروع کروائے جن میں سے متعدد پایہ تکمیل کو پہنچ گئے اور کئی میگا پراجیکٹ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث تاحال زیر تکمیل ہیں اس وقت بورے والا کا سب سے اہم منصوبہ جن پر نہ صرف لیگی ارکان اسمبلی،کارکنان اور سول سوسائٹی بلکہ بورے والا کے عوام کی توجہ مرکوز تھی کہ آٹھ سال قبل میاں شہباز شریف نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بورے والا کی اپنے ہاتھوں سے بنیاد رکھی تھی اس منصوبے کو دو سال میں مکمل ہونا تھا لیکن فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہ اُٹھ سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا جس کی وجہ سے لاکھوں شہری حکومت کی طرف سے علاج و معالجہ کی مفت طبی سہولتوں سے محروم چلے آ رہے تھے اور توقع تھی کہ خادم اعلیٰ پنجاب اپنے ہی ہاتھ سے شروع کروائے گئے اس میگا پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے باقی فنڈز جاری کرنے کا حکم دیں گے اسکے علاوہ شہباز شریف منی بائی پاس،قائد اعظم تفریحی پارک261ای بی اور دیگر کئی زیر تکمیل منصوبوں کے تمام فنڈز جاری کرنے کا اعلان بھی متوقع تھا ارکان اسمبلی نے بہت سے ایسے نئے منصوبے اپنے مطالبات کے ذریعہ میاں شہباز شریف کو پیش کیے جنکا اعلان انہوں نے اپنے خطاب میں کرنا تھا کارکنان اور بورے والا کی عوام کو اُس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے خطاب میں جاری منصوبوں میں سے کسی ایک بھی منصوبے کے سارے بقیہ فنڈز جاری کرنے کا اعلان نہ کیا اور جن منصوبوں کا اعلان کیا اُنکو اپنی آئندہ الیکشن میں کامیابی سے مشروط کر دیا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کارکنان،ارکان اسمبلی،لیگی عہدیداران اور دیگر افراد کی جلسہ کی کامیابی کے لیے کی جانے والی دن رات کوششوں کوئی پذیرائی نہ مل سکی اور یہ جلسہ صرف انتخابی مہم کے حوالہ سے اپنی پاور شو کروانے سے زیادہ کچھ نہ تھا وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس جلسہ میں سب سے بڑی بدانتظامی یہ دیکھنے کو ملی کہ جلسہ کی کوریج کے لیے سپیشل برانچ کی طرف سے جاری کردہ میڈیا کے سیکورٹی کارڈز کی حیثیت اُس وقت ختم ہو گئی جب میڈیا کے لیے بنائی گئی گیلری پر کارکنان نے قبضہ کر لیا اور میڈیا کے ارکان تین گھنٹے مختلف مقامات پر کھڑے ہو کر کوریج کرتے دکھائی دئیے اور میڈیا کے ارکان احتجاج بھی کرتے رہے اس جلسہ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے مقامی ایم پی اے چوہدری ارشاد احمد آرائیں،چیئرمین بلدیہ چوہدری محمد عاشق آرائیں،سردار خالد محمود اور دیگر ارکان و بلدیاتی نمائندوں نے تو اپنی ذمہ داری نبھا دی لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کی توقعات کے مطابق وہ اعلانات نہ کیے جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں