A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

سستی کے شکار افراد جلد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، تحقیق

Last Updated:16-01-2015

لندن: برطانیہ میں کی جانی والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ورزش نہ کرنا اور سستی کا شکار ہونا انسان کو موت کے زیادہ قریب لے جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد موٹاپے سے مرنے والوں سے دوگنا زیادہ ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمرج میں کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر بالخصوص یورپ میں لوگ پرتعیش زندگی گزار کر سستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں اور ورزش کو جیسے بھول ہی گئے ہیں جس کے باعث ایسے لوگ جلد موت کے منہ چلے جاتے ہیں بلکہ ان کی تعداد موٹاپے کا شکار لوگوں سے بھی دوگنا زیادہ ہے۔ یورپ میں ہر سال 6 لاکھ 76 ہزار افراد غیر فعالیت جب کہ 3 لاکھ 37 ہزار موٹاپے کے باعث موت کا شکار بن جاتے ہیں۔ تحقیق کے دوران 12 سال کے عرصے میں 3 لاکھ لوگوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ نتیجہ نکالا گیا کہ جو لوگ روزانہ 20 منٹ کی واک کرتے ہیں انہیں اس کے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جب کہ ورزش غیر معمولی موٹاپے کا شکارشخص کے لیے بھی فائدہ مند ہے،تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو لوگ دبلے ہوں لیکن ورزش نہیں کرتے وہ زیادہ صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں جب کہ موٹے لوگ اگر ورزش کریں تو ورزش نہ کرنے والوں سے زیادہ بہتر صحت حاصل کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے اہم رکن پروفیسر الف ایکیلنڈ کا کہناتھا کہ 3 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لینے کے بعد یہ دیکھا گیا کہ جو لوگ فارغ گھر پر بیٹھے رہتے تھے ان میں موت کی شرح زیادہ تھی تاہم اگر فارغ وقت کو ورزش کرنے میں استعمال کرکے اس پر قابو پایا جائے تو موت کی شرح میں 7.6 فیصد تک کمی کی جاسکتی ہے جب کہ اگر موٹاپے پر قابو پا لیا جائے تو اس سے موت کی شرح میں 3.6 فیصد کی کمی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پہلے غیر فعالیت کو ختم کیا جائے پھر موٹاپے کو، دونوں کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ لوگ ہفتے میں کم از کم 5 گھنٹے کی سخت ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں جس میں پیدل چلنے کو سب سے زیادہ اہمیت دیں اور 20 منٹ کی جسمانی سرگرمی بھی روزانہ کر لی جائے تو وہ بھی واک کا نعم البدل ہوسکتی۔ چیریٹی ہارٹ اسپتال کے برطانوی ڈاکٹرباربرا ڈینسڈیل کا کہنا ہے کہ اس تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ ورزش کی صحت مند زندگی میں کتنی اہمیت ہے اورخاص طورجب کوئی شخص غیر سرگرم ہونے کے ساتھ ساتھ موٹاپے کا بھی شکار ہو۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں