A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

Last Updated:02-07-2014

کالم نگار | رحمت خان وردگ (صدر تحریک استقلال) ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد پر وفاقی وپنجاب حکومتوں کی حکمت عملی بری طرح ناکام ثابت ہوئی اور یہ بات ایک بار پھر سچ ثابت ہوئی کہ ن لیگ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔اب تک کی سیاسی صورتحال میں ڈاکٹر طاہر القادری مکمل طور پر کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان آمد سے قبل اور بعد میں بالکل واضح الفاظ میں اپنا موقف پیش کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ صرف حکومت کا خاتمہ ہمارے پیش نظر نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ہی ہمارا اصل ٹارگٹ ہے اور انہوں نے نظام کی تبدیلی کو ’’انقلاب‘‘ کا نام دیا ہے۔ میرے خیال میں جو نعرہ تحریک استقلال نے 1979ء میں لگایا تھا کہ ’’چہرے نہیں‘ نظام کو بدلو‘ لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو‘‘ ۔ وہی اب ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب کا مقصد بھی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ قومی دولت کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کرکے لٹیروں کو سخت سزائیں دینگے اور ملک سے فرسودہ انتخابی نظام کا خاتمہ کرکے متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات کا طریقہ رائج کیا جائیگا اور صوبوں کی تعداد میںاضافہ کرکے باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کرائے جائینگے اور تمام ترقیاتی فنڈز بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کئے جائینگے۔ الیکشن میں آئین کے آرٹیکل 62-63 کے معیار پر پورا اترنے والے افراد ہی حصہ لے سکیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے قطعاً یہ نہیں کہا کہ میں آئین پاکستان کو نہیں مانتا ۔ انہوں نے تو صرف آئین پر مکمل عملدرآمد کی ہی بات کی ہے۔ میرے خیال میں یہی اصل جمہوریت ہے اور اسی سے عوام کی اصل نمائندگی سامنے آئیگی اور ملک کے عوام کی تقدیر بدل جائیگی۔دوسری طرف تحریک انصاف کے عمران خان بھی ملک بھر میں مرحلہ وار جلسے منعقد کرکے حکومت کے خلاف تحریک کا نہ صرف عندیہ دے رہے ہیں بلکہ اب تو انہوں نے 14 اگست تک اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کا اعلان کردیا ہے۔ ہم انکے مطالبات کا جائزہ لیتے ہیں تو عمران خان صاحب فرماتے ہیں کہ 4 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرائی جائے تاکہ دھاندلی ثابت ہونے پر ان 4 نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرائے جائیں ۔ اب انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن میں سابق چیف جسٹس کے کردار‘ 11مئی کی رات کو ہی فتح یابی کی تقریر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دھاندلی کے ذمہ داران کو بھی بے نقاب کیا جائے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری جب عہدے پر تھے تو اس وقت عمران خان نے کبھی ان کیخلاف کوئی بات نہیں بلکہ انہیں بحال کرانے کیلئے آگے آگے تھے اور اب افتخار چوہدری ’’سابق جج‘‘ ہوگئے ہیں تو وہ ان کیخلاف بات کر رہے ہیں جوکہ درست نہیں۔ میںنے اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اس وقت بھی انکی مخالفت کی جب افتخار چوہدری چیف جسٹس تھے اور اب بھی کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ میری سمجھ میں انکے مطالبات بالکل نہیں آرہے۔ الیکشن میں دھاندلی کی بات تو ڈاکٹر طاہر القادری نے 11 مئی 2013ء کے انتخابات سے قبل ہی کردی تھی اور برملا کہا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت انتخابات میں حصہ لینے والے 11 مئی کی شام کو سڑکوں پر ہونگے اور دھاندلی کا رونا رویا جائیگا۔ انکی یہ بات 100% درست ثابت ہوئی اور پوری قوم گواہ ہے کہ مئی 2013ء کے انتخابات میں کس طرح سے ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت ن لیگ کو جتوایا گیا۔ عمران خان کے مطالبات کے پورے ہونے یا نہ ہونے سے عوام کا کیا تعلق؟ عمران خان تو تحریک میں کہیں بھی عوام کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنی نشستوں میں اضافے‘ دھاندلی‘ سابق چیف جسٹس کے کردار اور میڈیا کے چند افراد کے منفی کردار کی بات کر رہے ہیں۔ عمران خان نے اب تک یہی تاثر دیا ہے کہ وہ موجودہ نظام میں رہ کر ہی تبدیلی لائیں گے اور موجودہ نظام میں اگر عمران خان کو ’’باری‘‘ مل گئی تو یہی ایک انقلاب ہوگا۔ عمران خان یہ تو بتائیں کہ انتخابی مہم میں انہوں نے اقتدار میں آکر 90دن میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا دعوٰی کیا تھا لیکن خیبرپختونخواہ میں انکی حکومت کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر وہ یہ ایک ہی بنیادی کام نہیں کرسکے۔ اب تک خیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری کی یہ بات بالکل درست ثابت ہورہی ہے کہ موجودہ نظام میں رہ کر کسی بھی صورت مسائل میں کمی نہیں لائی جاسکتی۔موجودہ صورتحال میں مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک دونوں ہی پاکستان کے آبی وسائل سے مکمل استفادہ کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے معاملے پر مکمل خاموش ہیں اور میرے خیال میں جب تک عوام کو کالا باغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے بارے میں واضح پالیسی نہیں دی جاتی اس وقت تک پاکستان کے مسائل میں کمی نہیں آسکتی کیونکہ موجودہ مہنگائی‘ توانائی بحران‘ مہنگی بجلی‘ زرعی پانی کی قلت سمیت اہم اور بنیادی مسائل اس وقت تک حل نہیں ہوسکتے جب تک کالا باغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر تعمیر نہیں کرلئے جاتے۔ کسی بھی تحریک کے آغاز سے قبل لازمی ہے کہ اس اہم قومی بقاء کے معاملے پر قائدین اپنی پالیسی عوام کے سامنے پیش کریں کیونکہ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کا ذکر کئے بغیر کسی بھی تحریک سے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ن لیگ کے خواجہ آصف اور عابد شیرعلی جب اپوزیشن میں تھے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں قومی اسمبلی میں لمبی چوڑی تقریریں کرتے تھے اور منصوبے کو ملک کے بہترین مفاد میں قرار دیتے تھے مگر اقتدار میں آنے کے بعد واضح طور پر کہنا شروع کردیا کہ کالا باغ ڈیم صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر نہیں بناسکتے۔ حالانکہ واٹر ویژن 2016ء پر مشرف دور کی وفاقی کابینہ نے اتفاق کیا تھا اور واٹر ویژن 2016ء میں کالا باغ ڈیم سمیت بھاشا ڈیم‘ منڈا ڈیم‘ تنگی ڈیم اور اکھوڑی ڈیم بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ عظیم ترین قومی مفاد کے ان منصوبوں کو بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے جس کے ذمہ دار ملک اور عوام دشمن حکمران ہیں اور بڑے آبی ذخائر کی تعمیر نہ کرنا کسان دشمنی ہے۔کسی بھی تحریک سے پہلے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کالا باغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے بارے میں اپنا تفصیلی موقف عوام کے سامنے لائیں اور اگر اس اہم معاملے پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو میں سمجھوں گا کہ آنیوالا انقلاب بھی عوام کے مسائل میں اضافے کا ہی سبب بنے گا اور اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل سکے گا۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری علیحدہ‘ علیحدہ تحریکوں کی باتیں نہ کریں اور عوام کو کنفیوز کرنے کے بجائے پہلے آپس میں ملاقاتیں کرکے تحریک کے ایجنڈے کو طے کریں اور پھر آل پارٹیز کانفرنس میں تمام ہم خیال سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں۔ عمران خان کو چاہئے کہ 4 حلقوں کی دھاندلی کے بجائے نظام کی تبدیلی کی بات کریں کیونکہ اسی سے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد نظام کی تبدیلی کے بعد کئے جانیوالے تمام اقدامات سے عوام کو آگاہ کرنا قائدین کی ذمہ داری ہے اور ملک کے بنیادی مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اس لئے ہر ہر مسئلے کے حل کے بارے میں واضح پالیسی اور ایجنڈا سامنے لایا جائے تاکہ غریب عوام کو روشنی کی کرن نظر آئے۔

Share or Like:

Fallow Us: