A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

سائنسدانوں نے افریقہ کا وہ درخت ڈھونڈ لیا جہاں سے ایبولا وائرس شروع ہوا

Last Updated:03-01-2015

وناکری (نیوز ڈیسک) مغربی افریقہ سے شروع ہونے والے خوفناک عفریت ایبولا وائرس نے دنیا کے کونے کونے میں دہشت پھیلادی ہے اور اب تک تقریباً 8 ہزار لوگ اس کی وجہ سے لقمئہ اجل بن چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے طویل تحقیق کے بعد بالآخر یہ معلوم کرلیا ہے کہ یہ تباہ کن وائرس انسان میں کیسے منتقل ہوا اور اس کا آغاز کہاں سے ہوا۔ ماہرین کے مطابق افریقی ملک گنی کے گاﺅں میلیاندو میں ایک قدیم درخت کے پاس پہلا انسان ایبولا وائرس کا شکار ہوا اور یہ وائرس اس درخت کی کھوہ میں رہنے والی چمگادڑوں میں موجود تھا۔ درخت کے پاس کھیلنے والا 2 سالہ بچہ ایملی ایبولا کی حالیہ وباءکا پہلا شکار بنا۔ اس کی وفات 6 دسمبر 2013 کو ہوئی اور 25 دسمبر کو اس کی بہن بھی ایبولا کا شکار ہوگئی اور محض پانچ دن بعد دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اس کے بعد پے در پے ایملی کی ماں اور نانی بھی اس خوفناک بیماری کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی گئیں۔ اس کے بعد یہ وائرس سارے گاﺅں، شہر اور پھر ملک میں پھیل گیا۔ گنی کے بعد یہ سرحد پار سیر الیون، لائبیریا اور نائجیریا میں بھی پھیل گیا اور اب سپین، امریکا اور برطانیہ میں بھی پہنچ چکا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کی حامل حشرات کھانے والی چمگادڑیں افریقہ کے جنگلوں میں پائی جاتی ہیں لیکن اتفاق سے ان کا ایک گروہ پرانے درخت کی کھوہ میں بھی رہ رہا تھا جہاں ننھا بچہ ان سے متاثر ہوا اور ایبولا وائرس کا شکار ہوگیا۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں