A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

مریخ پر زندگی کے آثار کی دریافت نے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا

Last Updated:18-12-2014

سان فرانسسكو: زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر زندگی کی موجودگی کے آثار کی یو ں تو سائنسدان کئی دہائیوں سے تلاش میں ہیں لیکن اس میں بہت کم ہی کامیابی ملی ہے تاہم ناسا کی تحقیقاتی روبوٹ کی جانب سے مریخ سے بھیجے جانے والی نئی معلومات میں انکشاف ہوا ہے کہ مریخ پر زندگی کے عناصر میتھین موجود ہے۔ ناسا کی جانب سے امریکی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرخ سیارے مریخ پر انسانی زندگی کے آثار کی موجودگی سامنے آئی ہے، ناسا کے مطابق زندہ چیزوں میں پائے جانے والے اہم عنصر میتھین کے ذرات مریخ کی فضا میں پائے گئے ہیں تاہم ناسا کے ایک اہم سائنسدان جون کروٹ زنگر کا کہنا ہے کہ ابھی اس کی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی روبوٹ کی مریخ پر زندگی سے متعلق معلومات انتہائی اہم ہیں کیونکہ اسی عنصر کو سائنسدان گزشتہ کئی دہائیوں سے تلاش کر رہے تھے لہذا اب یہ بات انتہائی اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ مریخ کی فضا میں مختلف ادوار میں میتھین گیس موجود رہی ہے اور ساتھ ہی اس پر موجود چٹانوں میں بھی کئی جگہ یہ آرگنک موجود ہے۔ جون کروٹ زنگر کا کہنا تھاکہ تحقیقاتی روبوٹ کی جانب سے بھیجے گئے میٹریل کے کیمیکل تجزیے یہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ نہ صرف میتھین بلکہ آرگنک مالیکیول بھی مریخ کی چٹانوں میں موجود ہے۔ سائنسدانوں کا گزشتہ کئی دہائیوں سے ماننا ہے کہ لاکھوں سال قبل یہ چٹانیں گرم اور گیلی تھیں جو بعد میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سخت ہو کر جم گئیں جبکہ ان میں زندگی کے عناصر کسی اور سیارے سے یہاں پہنچے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی روبوٹ میں ایسے آلات بہرحال نہیں ہیں جو بتا سکیں کہ اب بھی زندگی کے یہ عناصر وہاں موجود ہیں تاہم اس کی بدولت ہمیں یہ پتہ چل گیا کہ زندگی وہاں کبھی موجود رہی ہے۔ اس لیے خلائی روبوٹ کے میٹریل سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زندگی کو تشکیل دینے والے عناصر کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن ، آکسیجن اور فاسفورس کافی حد تک وہاں موجود رہے ہیں۔ 20 ماہ کے ڈیٹا سے حاصل معلومات کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مریخ کی سطح سے ملنے والے میتھین کے ذخیرے ان کے اندازے سے نصف ہیں جسے مریخ سے حاصل کی گئی مٹی اور آرگینک میٹریل کو شمسی لیزر سے ذرات میں تبدیل کر کے جانچا گیا تاہم یہ تعداد ماضی میں پائے جانے والے ذخیرے سے 10 گنا زیادہ ہے جسے سائنسی زبان میں سیون پارٹس پر بیلین کہا جاتا ہے۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں