A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

گینیز ورلڈ ریکارڈ کا سلسلہ کیسے او ر کیو ں شروع ہوا؟انتہائی دلچسپ رپورٹ

Last Updated:16-11-2014

نیویارک (نیوز ڈیسک) اگر یہ کہا جائے کہ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور سب سے زیادہ دلچسپ کتابوں میں سے ایک ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دنیا بھر کے حیران کن ریکارڈز پر مشتمل اس کتاب کے پاس یہ ریکارڈ بھی ہے کہ یہ کاپی رائٹ والی کتابوں میں سے دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ اس کتاب کے وجود میں آنے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ یہ 1951ءکی بات ہے کہ مشہور امریکی کاروباری شخصیت اور صنعتکار ہو بیور آئر لینڈ میں دریائے سیلینی کے کنارے شکار کررہے تھے۔ جب انہوں نے ایک پرندے کو شکار کرنے کی کوشش کی تو وہ پُھر سے اُڑ گیا۔ یہ پرندہ مرغابی سے ملتا جلتا گولڈن پلوور تھا۔ نشانہ خطا جانے پر ہوبیور نے یہ وجہ بتائی کہ یہ پرندہ یورپ کا سب سے تیز رفتار پرندہ تھا اور یوں دوستوں کے ساتھ اس کی یہ بحث شروع ہوگئی کہ سب سے تیز رفتار پرندہ گولڈن پلوور ہے یا ریڈ گروز۔ جب فیصلہ کرنے کے لئے مختلف کتابوں میں یہ معلومات ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی تو کسی بھی کتاب میں یورپ کے تیزرفتار ترین پدندے کا ذکر نہ ملا۔ یہ معلومات نہ ملنے پر ہوبیور کو اتنی مایوسی ہوئی کہ اس نے خود ایک ایسی کتاب بنانے کا فیصلہ کرلیا جس میں ہر شعبہ میں بہترین شخص، جانور یا چیز کا ذکر ہوگا۔ اس کتاب کو گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کا نام دیا گیا اور اس کا پہلا ایڈیشن اگست 1955ءمیں لندن سے شائع کیا گیا جو کہ شائقین کو مفت تقسیم کیا گیا۔ اس کتاب نے منظر عام پر آتے ہی بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی اور پھر ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اب اسے ہر سال ستمبر یا اکتوبر کے مہینے میں شائع کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں لوگ اسے شائع ہوتے ہی دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں