A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

پاکستان ایک نظر میں) - کیا مزید صوبے ترقی کی ضمانت ہیں؟)

Last Updated:24-09-2014

کرپشن ، لاقانونیت ،دہشتگردی ، بے روزگاری، مہنگائی سمیت کئی مسائل کا حل اگر 20یا 32صوبے بنانے میں ہے تو بنائیے۔زبان ، رنگ و نسل کی بنیاد پر نہ سہی انتظامی لحاظ سے ہی ملک تقسیم کرنا بہت ضروری ہے تو کردیں ، مگر سوچ لیں ۔جس ملک کے 50فیصد سے زائدآبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہو، بچے تعلیم ، صحت اور مناسب خوراک سے محروم ہوں ۔اس ملک میں صرف ایک ایم این اے پر ( تنخواہ + مراعات کی مد میں ) سالانہ2کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں،5صوبائی اسمبلیوں کے727اراکین کے اخراجات اپنی جگہ اور سینٹ کے اراکین کی مراعات اس میں شامل کردی جائیں تورقم اربوں میں جاتی ہے مگر اس کے باوجود اس جمہوری نظام سے عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ اس حساب کتاب کو یک طرف رکھ دیں ۔مطالبہ کرنے والے سوچیں کہ اس مشق کے بعد بھی مسائل عوام کی دہلیز پر حل نہ ہوئے تو کیا ہوگا؟۔ اور جب یہ ادارے 22یا 34کی تعداد میں ہونگے تو ان کے اخراجات کا بوجھ کس پر ہوگا ؟۔ان اسمبلیوں میں جمہوری انداز سے منتخب ہوکر آنیوالوں کا رویہ آمرانہ نہیں ہوگا اس بات کی گارنٹی کو ن دے گا ؟۔ اس کے بعد بھی کون اس بات کو شرح صدر کے ساتھ کون کہہ سکتا ہے کہ علیحدگی کی تحریکیں دم توڑ دینگی،لسانی بنیادوں پر فسادات نہیں ہونگے اور وفاقی دارالحکومت پر 4سے 40ہزار کا لشکر دھاوا نہیں بولے گا ؟۔ کون اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ان 22یا 34اسمبلیوں میں جاگیر دار ، سرمایہ دار اور صنعت کار منتخب ہوکر غریب عوام کا استحصال نہیں کرینگے؟۔ اور اگر ان منتخب افراد نے اپنے ہی بھائی ، بھتیجے ، بھانجے ، ماموں اور چاچوں کو نوازا توکون ہوگا جو نظام کو درست پٹری پر لاکر ہی رہیگا ؟۔مجھے یقین ہے جن لوگوں نے ملک کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی راہ ہموار کی ہے وہ اس کا درست انداز میں مقدمہ لڑیں گے۔ شاید ان کے ذہن میں ہو کہ 22یا 34ایوان اقتدار کے نمائندے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے تنخواہیں لے گئے نہ ہی مراعات بلکہ عوام کی زندگی میں بہتری کیلئے اپنا تن من دھن وار دینگے۔تو ایسی باتیں حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔سب جانتے ہیں کہ جو لوگ منتخب ہونے کیلئے لاکھو ں لگاتے ہیں ،وہ کروڑوں روپے کی واپسی کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں ، وہ اپنا سرمایہ سود سمیت عوام سے لیتے ہیں ، چاہے اس کیلئے انہیں پیار و محبت یا پھر جبر کو بطور ہتھیار استعمال کرنا پڑ جائے۔ ان کے پاس تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں ،وہ ایسے منصوبے بناتے ہیں جن سے مکمل عوامی آگہی اور کبھی عوام کی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں بٹور لیتے ہیں۔پاکستان کے 2سو ارب ڈالر ایسے ہی تو سویس بینک کا حصہ نہیں بنے،اور تمام ہی سیاسی جماعتیں ایسا لائحہ عمل بنا رہی ہیں کہ ان کی واپسی ناممکن بنادی جائے۔ اس ساری گفتگو کا مطلب یہ نہیں کہ میں جمہوریت مخالف ہوں،اور ایسا بھی کچھ نہیں کہ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جس میں کرپشن نہ ہوتی ہویا نئے صوبے نہ بنے ہوں ۔جمہوریت بھی دنیا میں چل رہی ہے، نئے صوبے بھی بنتے ہیں اور کرپشن بھی ہوتی ہے۔اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر صوبوں کی تقسیم خراب کیسے ہوگئی؟ معاملے کا اصل حل کیا ہے؟۔ یہ دونوں ہی سوالات اہم ہیں۔ جن کا جواب یہ ہے کہ دنیا کے تمام ہی ترقی یافتہ ممالک میں کرپشن ہوتی ہے، مگر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے جیسے ریلوے، پولیس ، نہری نظام، پبلک ٹرانسپورٹ،پانی ،صفائی،صحت و تعلیم کے منصوبوں میں کرپشن ناقابل معافی جرم ہے۔ کیونکہ وہاں کے حکمرانوں اور بیورو کریسی کو معلوم ہے کہ انہیں اور ان کی اولاد کو صحت و تعلیم بھی اس معاشرے سے ملنی ہے، ٹرانسپورٹ ، پانی ، ریلوے کے بغیر وہ سفر سے محروم ہوجائینگے۔جان سے لے کر مال کے لٹ جانے پر معاون و مددگار صرف پولیس کا ادارہ ہی ہوسکتا ہے اس لیے ان شعبہ جات کو کرپشن اور سیاسی بھرتیوں سے ہر صورت پاک رکھا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ قلات،مکران، ژوب کے لوگ کوئٹہ آنے جانے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں یہی معاملہ ہزارہ،مالاکنڈکے عوام کو پشاور جانے ، بہاولپور،ملتان،راولپنڈی ، سرگودھا کے شہری لاہور کے چکر اور سکھر ، میرپور خاص اور حیدر آباد ڈویژن کے عوام چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے کراچی کے دھکے کھاتے ہیں ان کا تدارک ہونا چاہیے۔ لیکن نئے صوبے بنانے سے قبل قوم میں جمہوریت اور جمہوری رویہ پروان چڑھانے کیلئے تعلیم و صحت سب کیلئے کا نعرہ نہیں بلکہ عملی اقدام کیا جاتا ہے۔عوام کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت صرف احتجاج کے حق کا نام نہیں ،حقوق ، حقوق کا راگ الاپنے کا نام بھی نہیں بلکہ یہ فرائض کی ادئیگی نہ کرنے پر حق مانگنے کو جمہوریت کہتے ہیں۔ جب آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نمائندہ اپنے فرائض ادا کرے توآپ ذمہ داریوں سے کیسے فرار اختیار کرسکتے ہیں۔دنیا بھر میں نئے صوبے بنانے کے بعد فوراً ہی تمام انتظامی امور ان کے حوالے نہیں کردئیے جاتے ہیں بلکہ تدریج کا اصول اپنایا جاتا ہے،سادگی اور حب الوطنی کے جذبے کو معاشرے کا جزلازم بنایا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ہوتا یہ ہے کہ دو حریف جماعتیں پانچ برس اقتدار کے مزے لوٹتیں ہیں اور بلدیاتی نظام تک مرتب کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور پھر بھی عوام ان ہی کو دوبارہ منتخب کرکے اقتدار کی راہ داریوں میں پہنچا دیتی ہیں۔

Share or Like:

Fallow Us: