A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

Last Updated:21-06-2014

پاکستان پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں جناب طاہر القادری نے اسلام آباد میں کنٹینر فیم جلسہ ¿ عام کیا تو مَیں نے ان کے حوالے سے کئی نظمیں لکھیں جو ”پاکستان“ میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔ مجھے ان کے پروگرام سے بہت سے اختلاف تھے۔ سب سے بڑا اختلاف یہ تھا کہ اگر وہ ایک مذہبی رہنما اور عالم دین ہیں تو سیاست میں اس قدر انتہائی سطح پر کیوں چلے گئے؟ ایک مَیں ہی نہیں، تقریباً سارے لکھنے والے ان کے نقطہ ¿ نظر کے مخالف تھے۔ اُن دِنوں جناب طاہر القادری نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے، لیکن جب انہوں نے اپنا دھرنا ختم کیا تو خالی جھولی جھاڑ کر چلتے بنے۔ تب مَیں نے ایک نظم کہی تھی: جناب کہتے تھے، سارا نظام بدلوں گا مَیں ایک دن، روش ِ صبح و شام بدلوں گا مَیں اچھی طرح اس آئین کو سمجھتا ہوں سزا، جزا کے قوانین کو سمجھتا ہوں ستم گروں کا مجھے احتساب کرنا ہے یہیں سے پیدا کوئی انقلاب کرنا ہے مَیں ظالموں کو کٹہرے میں لے کے آﺅں گا مَیں ان کے واسطے قانون خود بناﺅں گا یہ لوگ رقص کریں گے مرے اشاروں پر نظر رکھوں گا مَیں سارے سیاہ کاروں پر چلیں یہ مان لیا، آپ انقلابی ہیں سوال اپنی طرف سے بھی کچھ جوابی ہیں جناب اپنا بھی کچھ احتساب کرتے ہیں؟ کہ اشتعال میں آ کر خطاب کرتے ہیں؟ خیال آیا کبھی ”اُن“ کی شہریت چھوڑیں یہ جامِ غیر جو ہاتھوں میں ہے، اِسے توڑیں جنابِ شیخ! نہ کیجئے بڑی بڑی باتیں تمہارے وصل سے اچھی ہیں ہجر کی راتیں جناب ڈاکٹر طاہر القادری سے تمام اختلافات کے باوجود مَیں اس حقیقت کا اظہار اور اقرار ضرور کروں گا کہ ڈاکٹر صاحب کے اتنے بڑے دھرنے کے باوجود اسلام آباد کا ایک کھمبا تک ٹیڑھا نہ ہوا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تربیت کا اثر ہے کہ ان کے شاگردوں، پیرو کاروں اور عقیدت مندوں نے سرکاری مال واملاک کو مالِ یغما نہیں جانا، ورنہ عوام کا ہجوم جو چاہتا، کر سکتا تھا اور ڈاکٹر صاحب یہ کہہ کر اپنا دامن بچا سکتے تھے کہ مجمع قابو سے باہر ہو گیا تھا۔ اس پس منظر میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ابھی سے ڈاکٹر طاہر القادری کے جس ”شاندار استقبال“ کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، وہ انتہائی غیر ضروری محسوس ہوتی ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے اوور سمارٹ بننے کی کوشش ، پاکستان عوامی تحریک کے کئی کارکنوں کی جان لے گئی۔ شاید کسی نے پولیس کو گُر بہ کشتن روزِ اول“ کا مشورہ دیا تھا تاکہ23جون کو صرف خاموشی ہی خاموشی ہو، لیکن یہ حکمت عملی بُری طرح ناکام ہو گئی۔ یہ سانحہ ¿ لاہور ،جس میں بہت سی قیمتی جانیں چلی گئیں، 23جون کی تحریک کو ابھی سے مہمیز دے رہا ہے اور پتا دے رہا ہے کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے؟ گرمی کے موسم میں گرما گرمی ہی ہو سکتی ہے۔ کل تک جو لوگ ڈاکٹر طاہر القادری کے حامی نہیں تھے، آج ان کے لئے ہمدردانہ جذبات کا اظہار کر رہے ہیں، اس لیے کہ انہیں جرم سے بڑھ کر سزا دی گئی ہے۔ تجاوزات قائم کرنے کی سزا اگر موت ہے تو سارا لاہور اس کا مستحق ہے۔ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کی طرح، مسلم لیگ(ن) کی حکومت بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی مقام پر دھرنا دینے اور جلسہ کرنے کی اجازت دے دے تو یہ جمہوری قدر کی پاسداری ہو گی۔ جمہوریت کی ایک قدر کشادگی بھی ہے، جو ہمیں دوسروں کو ان کا حق دینے پر مجبور کرتی ہے۔ آئین کے تحت کسی بھی شخص، گروہ یا جماعت کو جلسہ کرنے کا حق حاصل ہے تو ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی یہ حق ملنا چاہئے۔ ہاں اگر ڈاکٹر صاحب یا ان کے ساتھی آئین یا قانون توڑتے ہیں تو ان سے اسی طرح نمٹا جائے، جس طرح ہر قانون شکن سے نمٹا جاتا ہے۔ یہاں ایک سوال مجھے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے پوچھنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں آپ نے اس وقت دھرنا دیا جب حکومت اپنا عرصہ¿ اقتدار پورا کرنے والی تھی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو آپ تشکیل کے ایک سال بعد ہی گرانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں.... کیوں؟ حکومت کو تھوڑا سا وقت تو دیں، جس طرح بہترین انتقام جمہوریت ہے، اسی طرح بہترین انقلاب وہ ہے جو انتخابات کے ذریعے آئے۔ انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی حکومت کو گرانے کی کوشش کم از کم ان لوگوں کو نہیں کرنا چاہئے جو ووٹ کی طاقت پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر آپ انقلاب لانے کے آرزو مند ہیں تو انتخابات کا انتظار کیجئے۔ اپنے امیدوار کھڑے کیجئے اور کامیاب ہو کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیے، پھر آپ کی مرضی کہ سیاست بچائیں یا ریاست؟

Share or Like:

Fallow Us: