A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

Last Updated:21-06-2014

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہور کو کسی کی بُری نظر لگ گئی ہے کہ یہاں خون کا کھیل جاری ہے۔ ایک طرف ادارہ منہاج القرآن کا افسوسناک سانحہ پیش آیا، تو دوسری طرف ایم کیو ایم کی ایک رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف گولیوں کا نشانہ بن کر راہی ¿ملک ِ عدم ہوئیں۔ یہی نہیں لاہور کینال نے بھی اپنا خونی کھیل جاری رکھا اور دو مزید بچوں کی جان لے لی۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی نہر پر نہانے اور جان گنوانے کا سلسلہ جاری ہے۔ قومی اسمبلی کی رکن طاہرہ آصف علی وفاقی کالونی (کینال بنک روڈ) میں رہائش پذیر اور ان کا ماضی کا تعلق مسلم لیگ(ق) سے تھا، جس کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکن رہیں۔ پھر یہ جماعت چھوڑ کر ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی، اسی جماعت کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے لئے جنرل الیکشن میں حصہ لیا، لیکن ہار گئیں۔ ایم کیو ایم نے ان کو ڈومیسائل بنوا کر سندھ کے کوٹے سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی میں پہنچا دیا، دو روز قبل گھر سے نکل کر مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاﺅن آئیں، جہاں پھل خریدتے وقت دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی شدید زخمی حالت میں شیخ زید ہسپتال پہنچایا گیا۔ ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش ناکام ہو گئی۔ پولیس اسے ڈکیتی کی واردات کہہ رہی ہے، جبکہ ایم کیو ایم نے ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر تین روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا ہے، خاتون رکن قومی اسمبلی اسلام آباد جا رہی تھیں۔ موت نے مہلت نہ دی اور گزشتہ روز سپردخاک کر دی گئیں۔ ادھر گرمی کی شدت اور اس پر لوڈشیڈنگ کی بدتر صورت حال نے شہریوں کو بوکھلا دیا اور ان کو لاہور کینال غنیمت نظر آتی ہے، جہاں وہ گرمی کی اس سختی کو بھگانے میں کامیاب رہتے ہیں، لیکن یہ نہر جانوں کا خراج وصول کرتی رہتی ہے۔ چند روز پہلے دونوجوان جان گنوا بیٹھے اور گزشتہ روز ہربنس پورہ کے پانچ اور سات سال کے بچوں کو نہر نے نگل لیا۔ ریسکیو والوں نے ایک نعش چھ گھنٹے کی کوشش کے بعد تلاش کی اور دوسری مزید کئی گھنٹوں بعد خودبخود ابھر آئی۔ لاہور کینال شہر کے بیچوں بیچ بہتی اور بہت پرانی ہے، جو باغات کو سیراب کرنے کے لئے نکالی گئی تھی۔ اس نہر کا المیہ یہ ہے کہ ایسی خوبصورت اور دلکش نظارے والی اس نہر کو بُری طرح خراب کر دیا گیا اور سرکاری عملے کی غفلت کے باعث یہ رحمت کی بجائے زحمت بن گئی ہے۔ نہر پر نہانے کا سلسلہ نیا نہیں۔ یہ نہر کی تاریخ کے ساتھ ہی چلتا چلا آیا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے بھی نوجوان اس میں خرمستیاں کرتے اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہا اور ہے۔ ہم خود دوستوں کے ساتھ میاں میر کے مقام پر آ کر پکنک مناتے اور نہاتے رہے ہیں وہ اچھے دن تھے نہ تو نہر خونی تھی اور نہ ہی اس کو آلودہ کیا گیا تھا۔ آج یہ نہر نوجوانوں کی توجہ کا مرکز تو ہے اور گرمیوں خصوصاً تعلیمی اداروں کی چھٹیوں کے دوران روزانہ سینکڑوں نوجوان نہاتے نظر آتے ہیں تو بزرگ، خواتین اور بچے تفریح کے لئے بھی نہر کا انتخاب کرتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ سستی ترین تفریح ہے۔ اول تو شہر میں ایسے تفریحی مقامات ہی نہیں ہیں جہاں گرمی کی شدت سے محفوظ رہ کر وقت گزارا جا سکے اور اگر کوئی ہیں، تو مہنگے بہت ہیں۔ ہم نے اپنی تحریروں میں اس نہر میں ہونے والی اموات کا ذکر کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا تھا، اب بہتر ہے کہ اس نہر کے بارے میں ذرا تفصیل سے بات کر لی جائے کہ شاید کسی کے دل کو بات لگ ہی جائے۔ یہ نہر ماضی میں دریائے راوی کی مرہون منت تھی، توآج کل بی آر بی سے پانی حاصل کرتی ہے، جلو کے قریب سے یہ نہر نکلتی ہے۔ فتح گڑھ، ہربنس پورہ، مغلپورہ اور میاں میر سے ہوتی ہوئی ٹھوکر نیاز بیگ سے ملتان روڈ کے ساتھ ساتھ آگے چلی جاتی ہے، یہ بنیادی طور پر اردگرد کے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرنے کے لئے ہے، اس کے دونوں کناروں پر سایہ دار درخت بھی ہیں، ایک وقت تھا جب دور دور تک آبادی نہیں تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ اس نہر کے دونوں اطراف (جلو سے مغلپورہ تک) نئی آبادیاں بنی اور متعدد صنعتیں لگائی جا چکی ہیں، ان آبادیوں اور صنعت والوں نے آلودگی اور گندگی کے نکالنے کے لئے اس نہر کو منتخب کر لیا ہے اور آبادیوں والوں نے سیوریج کے پائپ ڈال لئے تو صنعتوں والوں نے فضلہ خارج کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بھینسیں بھی اسی نہر میں غسل فرماتی ہیں اور یہ سب مغلپورہ سے اوپر نہر کے منبع تک ہوتا ہے۔ یوں یہ پانی انتہائی مضر صحت ہو جاتا ہے، جلد کے لئے تو نقصان دہ ہے۔ ڈبکی لگانے والوں کے پیٹ میں بھی چلا جاتا ہے۔ یہ صورت حال برقرار چلی آ رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ ایک سے زیادہ مرتبہ واویلا کر چکے، کسی پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ اب جو اموات کا سلسلہ شروع ہوا تو بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بھی انسانی غفلت ہے، ہر سال دسمبر کے آخری ہفتوں میں بھل صفائی ہوتی ہے۔ اس نہر کا پانی بند کر کے اس کی صفائی بھی کی جاتی ہے، لیکن جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے یہ موت کی وادی بن گئی ہے۔ بھل صفائی والے کناروں کی مٹی صاف کر کے نہر میں ڈال دیتے ہیں۔ تھوڑی سی کناروں پربھی پھیلا کر احسان عظیم کرتے ہیں۔ یوں مٹی درمیان میں آ جاتی ہے اور نرم ہونے کے باعث پانی آئے تو دلدل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے علاوہ بھل صفائی کرنے والے ہی نہر کے اندر گڑھے بنا کر خود غائب ہو جاتے ہیں اب گرمیوں میں جب نوجوان نہاتے ہیں تو وہ چھلانگیں بھی لگاتے ہیں، کوئی نوجوان گڑھے والے مقام پر پہنچ جائے تو یہیں چکرا کر رہ جاتا ہے اور گڑھے کو شکار مل جاتا ہے۔ دوسری طرف نچلی سطح دلدلی ہو جانے کی وجہ سے چھلانگ لگانے والے کا پاﺅں پھنس جائے تو وہ باہر نہیں اُبھر پاتا۔ یوں اموات ہوتی رہتی ہیں۔ حکام بالا کو شکایت پر تلخی محسوس ہوتی ہے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جن کا لخت جگر پانی کی نذر ہو جائے ان کی تو دنیا اندھیر ہو جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کئی بار نشاندہی کر چکے، لیکن حکام توجہ نہیں دیتے۔ اب یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ نہر کو پختہ کرنے کی جو مہم چل رہی تھی اس کا کیا ہوا؟ یہ اسمبلی میں پوچھا جانے والا سوال ہے۔ لاہور ان حادثات کے باعث اداس ہے اور اس میں اضافہ کی ذمہ داری بھی متعلقین پر ہے جو یقینا حکومت ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ جس مسئلہ یا مشکل سے آگاہ کرنے کی جسارت کی جائے اس پر غور بھی کیا جائے، تبھی یہ مسائل حل ہو سکیں گے ورنہ مرنا تو سب نے ہے۔ اس شدید گرم لہر کے حوالے سے لوڈشیڈنگ کا ذکر بے معنی نہیں ہو گا۔ ایک تو لوڈشیڈنگ کا وقفہ لمبا ہے۔ دوسرے نظام پر بوجھ پڑا تو اس کی بوسیدگی بھی ظاہر ہو گئی ہے۔ یہ لوگوں کو خراب کرنے والی ہے۔ بجلی کی ٹرپنگ اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کس قاعدے اور قانون کے تحت ہے اس کا علم ہونا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا کوئی معین وقت نہیں ہے، اس کے باوجود لوئر مڈل کلاس اور عوام بھاری بل ادا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ٭

Share or Like:

Fallow Us: