A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

یا اللہ ہمیں بچالے

Last Updated:13-08-2014

ارادوں اور بعض اوقات پختہ ارادوں کے بھی یکایک ٹوٹ جانے سے انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ یہی ہمارے ساتھ ہوا۔ اگرچہ میں فی الحال اب زیادہ دور تک پیدل نہیں چل سکتا اور جہاں حسب ارادہ اور وعدہ پہنچا تھا وہ جگہ اگرچہ میری ایک آزمائش تھی لیکن میں نے اس آزمائش سے گزرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ سہ پہر تک فرصت تھی اور وہ ڈاکٹر جو مہینوں کی ڈیٹ دیا کرتے ہیں میرے قابو آ گئے بلکہ اب تو یہ لگتا ہے کہ وہ نہیں میں ان کے قابو آ گیا تھا۔ بہر کیف میرے گھٹنے کے معائنے اور اس میں استعمال ہونے والے آلات کی وجہ سے دیر پہ دیر ہوتی گئی۔ ایلوپیتھی طریقہ علاج میں حکیموں کے برعکس انسان کی مہارت سے زیادہ آلات کی مدد لی جاتی ہے اور یہ آلات طے کرتے ہیں کہ مرض کیا ہے اور کتنا ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ جو ڈاکٹر مہربانی کر رہے ہیں وہ سب ان آلات کے محتاج ہیں لیکن آسان اور مروجہ طریقہ علاج یہی چل رہا ہے۔ یہاں میں اطباء کے حیرت انگیز طبی کارناموں کا ذکر نہیں کروں گا جو یونانی طبیبوں سے لے کر حکیم اجمل خان تک پھیلے ہوئے ہیں چنانچہ میرے گھٹنے کا علاج جاری ہے اور اس کے بارے میں جو مختلف طبی آراء ہیں ان کا ذکر بے کار ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ بقول استاد امام دین گجراتی ع میرے گھٹنے میں درد جگر مام دینا اس لیے علاج بھی ہو گیا ہے۔ گھٹنے اور درد جگر کا تعلق کون ثابت کرے اور پھر کوئی علاج تجویز ہو۔ بہر کیف میں شرمندہ ہوں اور شرمندہ رہوں گا ان عزیزوں سے جن سے میں نے شرکت کا مشروط وعدہ کیا تھا جو میرے بیٹے کے اچانک کراچی چلے جانے کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا اس نے میری نقل و حمل کا وعدہ کیا تھا۔ یہ سو فی صد ذاتی مسئلہ میں نے قارئین کی مہربانی سے درج کر دیا ہے ایک معذرت مطلوب تھی معلوم نہیں وہ قبول ہوتی بھی ہے یا نہیں۔ میں نے اپنے حصے کے جلسے جلوس اور تقریبات مکمل کر لی ہیں یہ سلسلہ اب پہلے والا نہیں رہا اس میں خلل پڑتا ہے اور بعض اوقات ناگہانی۔ اگر اس زمانے میں خلل نہیں ہے تو وہ ہمارے نئے لیڈروں کی مصروفیات میں نہیں ہے۔ کینیڈا کے نصف اور پاکستان کے نصف شہری جناب طاہر القادری ان دنوں پاکستان پر یلغار کیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کی پاکستانی یلغار پر یہ سوال اٹھنا چاہیے تھا کہ وہ اس یلغار کو بھی اپنی پاکستانی شہریت کی طرح نصف کر لیں ہم اس نصف پر بھی گزارہ کر لیں گے۔ مثلاً انھوں نے گزشتہ روز کوئی دو گھنٹے مسلسل تقریر کی۔ ہمارے لیے ایک گھنٹہ بھی بہت تھا کیونکہ انھیں اپنی کام کی بات سے جلد ہی مکر جانا تھا۔ اگر وہ قتل و خونریزی اور ’’شہادت‘‘ کی تلقین بلکہ کارکنوں کے لیے بدرجہ حکم ڈٹے رہتے تو ان کی کینیڈا کی شہریت اس جرم میں ختم ہو سکتی تھی اس لیے انھوں نے فوراً ہی پینترا بدلا اور اسے مذاق قرار دے دیا۔ کینیڈا والے بھی در گزر کریں گے کیونکہ حضرت وہی کام کر رہے ہیں جو مغربی دنیا چاہتی ہے یعنی پاکستان کی اس قدر کمزوری کے وہ ایٹم والے نخرے سے باز آ جائے اور بندوق تک محدود ہو جائے تا کہ بھارت کے لیے خطرہ نہ بنیں جو اس وقت امریکا اور مغرب کو محبوب ہے اور اسے سلامتی کونسل کی رکنیت بھی دی جا رہی ہے۔ ہم اگر اپنے یوم آزادی سے بخریت فارغ ہو گئے تو اس پر بھی غور کریں گے۔ ہمارے پڑوس میں بھی یوم آزادی ہے اور انھیں اپنی مسلسل آزادی پر بجا طور پر فخر بھی ہے جس میں کسی مارشل لاء کا خلل نہیں ہے جب کہ ہم اس وقت بھی کسی مارشل لاء کے متوقع خطرے کی زد میں ہیں۔ اپنے قادری صاحب ہماری جو حالت بنا دینا چاہتے ہیں اس کا حل کسی ایسی طاقت کے بغیر کیسے ممکن ہے جو سب پر قابو پا سکے۔ یوں تو یہ بھی کہا جا رہا ہے حکومت سمیت اپوزیشن بھی فوجی حکومت کی طلبگار ہے۔ نہ حکومت سے ملک سنبھل رہا ہے اور نہ اپوزیشن سے سیاست کی جا رہی ہے۔ دونوں اپنی اپنی حالت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اس کا آسان اور قابل قبول طریقہ فوجی حکومت ہے جس کے پاکستانی عوام عادی بن چکے ہیں بلکہ اب تو حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ مشکلات اور پریشانی وہاں تک بھی جا پہنچی ہے جہاں اس کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا۔ ہمارے علاقے میں سبزی کاشت ہوتی ہے موسم کی ساز گاری کی وجہ سے کئی سبزیاں خوب کامیاب رہتی ہیں لیکن اب فصل تیار ہے مگر اس کو منڈی تک لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ موجود نہیں راستے بند اور گاڑیاں بھی بند۔ سبزی دو تین دن سے زیادہ انتظار نہیں کر سکتی اس طرح لاکھوں روپے کی فصل کھیت میں ہی ختم ہو جائے گی۔ ہماری گھبرائی ہوئی حکومت اپنا بچائو بھی کسی سلیقے سے نہیں کر سکتی۔ اب اپوزیشن کی منتوں پر اتر آئی ہے اور کون نہیں جانتا کہ راج منت سماجت سے کام نہیں لیا کرتے۔ ذرا غور کریں اور حیرت زدہ ہوں کہ ایک برس کی عمر میں ہی حکومت ناکام ہو گئی اور حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ جب حکومت قائم ہوئی تو اس نے اپنی مدد کے لیے کئی ایک مجالس شوریٰ بھی قائم کیں۔ ان میں شاعر بھی تھے۔ شہنشاہ اکبر کی طرز کے بیربل بھی تھے اور ملا دو پیازہ بھی کرکٹ کا میدان تو تھا ہی۔ حکمران یا تو لطیفے انجوائے کرتے رہے یا اپنے نہ جانے کتنے نورتنوں کی نکتہ آفرینوں کے مزے لیتے رہے۔ ادھر عوام مہنگائی اور بدامنی سے ہلکان ہوتے رہے اور بجلی جیسی ہر وقت کی ضرورت ختم ہو گئی۔ اب تو ہمارا باورچی خانہ بھی بجلی کا محتاج ہے اور چھوٹا بڑا کاروبار تو ہے ہی بجلی کا محتاج۔ ہمارے تو صنعتی شہر تک بند ہو گئے مثلاً فیصل آباد۔ عوام نے حکمرانوں کی تقریریں تو بہت سنیں اور اخباروں میں عوام کے خرچ پر اشتہار بھی پڑھے لیکن عملاً کچھ نہ ہوا۔ بس کوئی نیا تعمیراتی منصوبہ یعنی کوئی نئی سڑک سامنے آ گئی۔ کہتے ہیں کہ جس قدر کمیشن وغیرہ تعمیرات میں ہوتا ہے اور کسی میں نہیں ہوتا۔ حکومت کا پہلا سال جس لاپرواہی اور کھیل کود میں گزرا اور جس طرح غیر ملکی دورے کیے گئے ان پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ تعجب ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس قدر لاپرواہی کیوں برتی؟ کیا انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی اپوزیشن اس انتظار میں ہے اور تیاری پکڑ رہی ہے کیونکہ کوئی اندھا بھی دیکھ رہا تھا کہ حالات کیا رخ اختیار کررہے ہیں اور اپوزیشن کو بلا رہے ہیں صرف ایک برس میں اپوزیشن کو بلانے کا واقعہ سیاسی تاریخ ہے۔ اب تو یہی تمنا ہے اور دعا ہے کہ خدا کرے ہم اور ہمارا ملک اس بحران سے سلامت نکل آئے۔ بس خدا سے عاجزانہ التجا ہے کہ یا اللہ ہمیں بچا لے۔ ہمارے دشمن سرگرم ہیں اور اب تو ہماری فوج دشمن کی تخریب کاری روکنے میں مصروف ہے۔ ہمارے پاس اپنے بچائو کی اور کوئی صورت موجود نہیں۔

Share or Like:

Fallow Us: