A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

دپیکا لمبی ہیں یا کترینہ؟، بھارت میں سرکاری ملازمت کے لئے سب سے ضروری سوال

Last Updated:22-07-2014

نئی دہلی: بھارت میں سرکاری ملازموں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے ملک اور دنیا کے بارے میں معلومات رکھتے ہوں بلکہ ضروری یہ ہے کہ انہیں اس بات کا پتہ ہو کہ بالی ووڈ کی کون سی اداکارہ کا قد سب سے لمبا ہے۔ بھارت میں اسٹاف سلیکشن کمیٹی کے نام سے ایک سرکاری ادارہ قائم ہے جس کی ذمہ داری مختلف محکموں میں غیر تیکنیکی اسامیوں پر بھرتی ہے۔ یہ ادارہ سرکاری ملازمین کی بھرتی کے لئے امیدواروں کا باقاعدہ تحریری امتحان لیتا ہے۔ اس تحریری امتحان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں امتحان کے سوال نامے میں امیدواروں سے ایک سوال پوچھا گیا کہ پریانکا چوپڑا، دپیکا پدوکون ، کترینہ کیف اور ہما قریشی میں کون سی بالی ووڈ اداکارہ کا قد دیگر کے مقابلے میں لمبا ہے۔ اور تو اور اسی سوال نامے کے ایک حصے میں ایک عجیب و غریب استدلالی بیان بھی تحریر کیا گیا جس میں خواتین کو بلی اور چوہے تک بنادیا گیا۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اس قسم کے سوال نامے پر کی جانے والی تنقید کے بعد اسٹاف سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اے بھٹچاریہ نے کہا کہ ان کے ادارے نے اس سوال نامے کو ترتیب نہیں دیا تھا اس کے لئے خصوصی طور پر اساتذہ کو تعینات کیا گیا تھا تاہم وہ اس قسم کے سوالات اور بیانات پر معذرت چاہتے ہیں۔ چلیں اب اس بات کا تو پتہ چل ہی گیا کہ بھارت میں سرکاری ملازموں کی معلومات اور ان کی ذہنی پختگی کیا ہونی چاہئے، اب سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس قسم کے سوال نامے ہوں گے تو ملازمین کا معیار کیا ہوگا۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں