A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

انسانوں کی جان بچانے والے طبی ڈرونز تیار

Last Updated:17-06-2015

ڈرون کا نام پاکستان میں نفرت اور خوف کی علامت ہے جس سے امریکا وطن عزیز کی جغرافیائی حدود پامال کرتا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کے حامل ان طیاروں سے آفت زدہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کی نشاندہی، دواؤں اور خون کی فراہمی کےعلاوہ خوراک بھی پہنچائی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسے کئی تعمیری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مچھر پکڑنے والے ڈرون دنیا میں کمپیوٹرسافٹ ویئر بنانے والی سب سے بڑی کمپنی مائیکروسوفٹ نے ’’پروجیکٹ پریمونیشن‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس میں ڈرون فضا میں پرواز کرتے ہوئے مچھر پکڑنے اور ہوا میں موجود جراثیم کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی وبا یا بیماری کے پھوٹنے سے قبل ہی ڈاکٹروں کو خبردار کرنے کا کام کریں گے۔ ان ڈرونز میں موجود لیبارٹری مچھروں کا تجزیہ کرکے بتاسکے گی کہ ملیریا اور ڈینگی کی نئی وبا کب اور کیسے پھیل سکتی ہے۔ قدرتی آفات اور ڈرون ڈرون طیارے زلزلے اور سیلابی صورت حال میں متاثرہ علاقوں میں فوری دوائیں پہنچانے کا کام بہت سہولت اور تیزی سے کرسکتےہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں کسی فیلڈ کیمپ میں خون کی فوری ترسیل بھی ڈرون کے ذریعے ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی میں انجینیئروں نے ایمبولینس ڈرون تیار کیا ہے جو خصوصی طور پر دل کے دوروں سے بچانے والے خودکار ڈی فبریلیٹرز کو 20 مںٹ سے بھی کم وقفے میں ضرورت کی جگہ پہنچاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی ضروری طبی آلات بھی لے جاسکتا ہے۔ ڈرون 7 میل کے دائرے میں پہنچ کر یہ آلات فراہم کرتا ہے اور اس میں ایک باتصویر معلوماتی کتابچہ بھی موجود ہے جسے پڑھ کر عام آدمی بھی ان آلات کو استعمال کرکے کسی کی جان بچاسکتا ہے۔ فضائی ڈسپنسری سوئزرلینڈ کی ایک کمپنی ’میٹرنیٹ‘ نے اس سال اپنے پہلے ڈرون کا کامیاب تجربہ کیا جس کے ذریعے 20 کلوگرام وزنی طبی سامان 12 میل کے فاصلے تک بہت آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس میں دوائیں، خوراک اور ابتدائی طبی آلات موجود ہیں جسے پاپوا نیوگنی اور ہیٹی کے دوردراز اور مشکل علاقوں میں لوگوں تک بھیجنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس ڈرون کو موبائل ایپ کے ذریعے بھی اڑایا اور کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ وزن لےجانے کی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے اسے فضا میں اڑنے والی ڈسپنسری بھی کہا جارہا اور یہ ٹیکنالوجی کمرشل بنیادوں پر دستیاب ہے۔ ذرا پاکستان میں زلزلے، سیلاب اور دیگر آفات کا تصور کیجئے اور ان ڈرونز کو دیکھیے کہ ہماری کتنی مشکلات ان ایجادات سے حل ہوسکتی ہیں۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں