A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

جامعہ کراچی کے ایک اور استاد قتل

Last Updated:29-04-2015

کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کو ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا گیا۔ جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد وحید الرحمٰن کی کار پر فیڈرل بی ایریا (ایف بی ایریا) میں اُس وقت فائرنگ کی گئی، جب وہ یونیورسٹی جارہے تھے۔ ڈی آئی جی پولیس غربی فیروز شاہ کے مطابق وحید الرحمن کو نامعلوم موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے ایف بی ایریا بلاک 16 میں نشانہ بنایا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے پہلے کار پر سامنے سے فائرنگ کی گئی بعد ازاں دروازے کی جانب سے بھی ان پر فائرنگ کی گئی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان نے کارروائی میں نائن ایم ایم پستول استعمال کی۔ پولیس نے بتایا کہ وحید الرمان کو زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور ہلاک ہو گئے۔ واضح رہے کہ 42 سالہ وحید الرحمن جامعہ کراچی سے قبل وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ میں استاد رہ چکے تھے۔ وحید الرحمن کو یاسر رضوی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ جامعہ کراچی، شعبہ ابلاغ عامہ کی پروفیسر رفیعہ تاج نے وحید الرحمن کے قتل کو ڈپارٹمنٹ کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول پروفیسر ڈپارٹمنٹ کے ایک سرگرم استاد تھے، جن کی کمی کبھی پوری نہیں ہوسکے گی۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں