A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

ماہرین نے ’’دمے‘‘ کو شروع کرنے والے مخصوص خلیات تلاش کرلیے

Last Updated:26-04-2015

لندن: ماہرین نے دمے کو شروع کرنے والے مخصوص خلیات کو تلاش کرلیا ہے جس کے بعد دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرنے والے اس مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ برطانوی ماہرین نے دمے کی وجہ ڈھونڈ نکالی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ آلودگی وغیرہ سے سانس کی نالیوں کے خلیات (سیلز) میں تنگی پیدا ہوجاتی ہے اور مریض کوکئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اب دمے کو شروع کرنے والے ان مخصوص خلیات کو تلاش کرلیا گیا ہے۔ ماہرین کےمطابق تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ نالیوں میں کیلشیئم کا احساس کرنے والے خلیات سے ہی دمہ شروع ہوتا ہے لیکن اب کییلسیلائٹکس ادویہ سے ان ہی مخصوص خلیات کو بے عمل کرکے دمے کو روکا جاسکتا ہے جس کے لیے 5 سال درکار ہیں۔ دمے میں متاثر ہونے والے ان خلیات کو غیر فعال کرنے والی دوائیں دستیاب ہیں اور ان میں ایک کییلسیلائٹکس کمپاؤنڈ کہلاتے ہیں لیکن اب ماہرین نے معلوم کرلیا ہے کہ کییلسیلائٹکس کو براہِ راست پھیپھڑوں پر بھی آزمایا جاسکتا ہے اور دمے کو پیدا ہونے سے قبل ہی روکا جاسکتا ہے جب کہ مزید تحقیق کے بعد اگلے 5 سال تک دمے کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ دمے کے مریض دوا بھرے پمپ استعمال کرتے ہیں لیکن 5 فیصد مریضوں پر کسی قسم کی دوا کام نہیں کرتی۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں