A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا

Last Updated:16-04-2015

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عمل درآمد فوری طور پر روک دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے 18 ویں و21 آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالتوں کا قیام موجودہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر کوئی بھی قانون بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہو تو سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گئے کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ وفاق کی جانب سے جوابی دلائل میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا پانے والوں کے پاس اپیل کا حق ہے، آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لئے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیا کہ ہمارے علم میں نہیں کہ فوجی عدالتوں میں کیا کارروائی ہورہی ہے، عدالت نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے نوٹس جاری کئے، پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت عدالت میں چیلنج ہے، ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی ہے جو معمولی سزا نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ شیخ لیاقت حسین کیس میں پہلے بھی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت تک 2 افراد کو پھانسی دی جاچکی تھی، کیا گارنٹی ہے کہ اچانک پتا چلےکہ اپیل خارج ہونےکےبعد پھانسی دی جارہی ہے۔ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق فیصلہ آنے تک سزاؤں پرعمل درآمد روکا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عمل درآمد فوری طور پر روکتے ہوئے مزید سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں