A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

اب بھی وقت ہے، بلوچستان کو تھام لیجیے!

Last Updated:16-04-2015

قیام پاکستان کی مہم جوئی میں ایک جانب مشرقی پاکستان ’موجودہ بنگلہ دیش‘ کے پُرجوش عوام کا کردار مثالی تھا تو دوسری جانب دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی عوام نے ہر لحاظ سے بانی پاکستان کا ساتھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ محب وطن اور پرامن بلوچی آخر کیوں کربدامنی کا شکار ہیں؟ قبائلی نظام: سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی طرح بلوچستان میں بھی مضبوط قبائلی نظام پر مبنی معاشرہ آباد ہے۔ باقی صوبوں کے برعکس یہ نظام یہاں زیادہ متحرک اور موثر انداز میں موجود ہے۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں آج بھی قبیلےکے سردار ہی حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ اصل حکمرانی انہیں کے پاس ہے۔ جیوپولیٹیکل ویو: ایک طرف تو بلوچستان پاکستان کا، رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے تو آبادی کےتناسب سے سب سے چھوٹا بھی۔ زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ بلوچستان بیک وقت ہمسائے ممالک افغانستان اور ایران سے مشترک سرحدیں رکھتا ہے، دوسری جانب ان ممالک میں بلوچ علاقے بھی ہیں۔ یہ علاقے پاکستانی بلوچستان سے جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری ساحل بھی بلوچستان کی اہمیت بڑھا دیتا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچ قبائل کی بڑی تعداد پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی آباد ہے۔ تعلیمی صورتحال: تعلیمی پسماندگی یہاں کے بنیادی مسائل میں سے ایک برننگ ایشو ہے۔ سرکاری اسکول بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ یہاں تک کہ بعض علاقوں میں استاد تک موجود نہیں اور اسکول کی عمارت کسی سردار کے ذاتی استعمال میں ہے۔ کوئٹہ شہر جو صوبائی دارالحکومت کا درجہ رکھتا ہے، وہاں نسبتاً تعلیمی صورتحال بہتر ہے لیکن صوبے کی مجموعی تعلیمی حالت تشویک ناک حد تک خراب ہے۔ وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں نے بلوچ طلبہ کو خصوصی سکالرشپس کی سہولت فراہم کر رکھی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود ابھی کافی محنت درکار ہوگی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے۔ عالمی طاقتیں: پاکستان کے لیے بلوچستان کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ لیکن دوسری جانب عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفاد لیے، بلوچستان میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ ایران کو اپنے تیل کے ختم ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ بھٹو دورِ حکومت میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان اپنے علاقوں میں تیل کے کنووں پر کام نہیں کر یگا۔ کیوں کہ تقریباً سارے تیل کے ذخائر کا بہاو بلوچستان کی طرف ہے۔ دوسری جانب سارا سال آمدورفت کے لیے قابل استعمال گوادر بندرگاہ اپنی خاص لوکیشن اور فنکشن کی بنا پرچین کے علاوہ کئی عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گوادر بندرگاہ کی دوسری خوبی اس میں تیرتے جہازوں کے لیے ساحل کے قریب ترین لنگرانداز ہونے کی صلاحیت ہے، دنیا میں اس خوبی کی حامل کم ہی بندرگاہیں ہیں۔ گوادر بندرگاہ کے فنکشنل ہونے کی صورت میں مصنوعی بنیادوں پرکھڑا عرب امارات کا معاشی ڈھانچہ 80 فیصد نکارہ ہوجائے گا اور چین کو اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں لے جانے کے لیے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ صرف چند سو کلو میٹر میں طے کرنا پڑے گا جس سے ایک خطیر لاگت کی بچت ہوگی۔ ملکی ادارے: پاکستانی حکومتی اداروں کی کارکردگی افسوس ناک حد تک خراب ہے۔ لیویز کی فورس نااہل افراد پر مشتمل ہے۔ خود حکومتی اہلکار جرائم میں ملوث ہیں۔ 18 ہزار لاپتہ افراد کے خاندان دن رات ازیت ناک زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کئی بار بیرونی مداخلت کے شواہد ملنے کے باوجود پارلیمنٹ نے اپنا مثبت رول ادا نہیں کیا۔ سالانہ بجٹ میں قابل زکر حصہ بلوچستان کو نہیں دیا گیا۔ سیاسی وعدے ہوئے لیکن عمل نا کیا جا سکا۔ گذشتہ حکومتوں کے اعلان کردہ بلوچستان پیکج دفتری ردی کا حصہ بن گے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی ابھی تک کوئی قابل زکر فیصلہ نہیں دے سکی۔ مسئلے کی اصل وجہ اور ممکنہ حل: چند دن پہلے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دہاڈی دار مزدور دہشت گردوں کی سفاکیت کی بھینٹ چھڑ گئے۔ ان مزدوروں سے بلوچستان کے مسائل کا کیا تعلق ہوسکتا تھا؟ آخر کیوں یہ ظلم کیا گیا؟ اس سے پہلے بھی مزدوروں کو قتل کیا جاچکا ہے اور اُنہیں وہاں سے بھاگ جانے پر مجبور کردیا گیا۔ ایک گہری سازش کے تحت بلوچ نوجوان کو حکومتوں کی خراب کارکردگی کی آڑ میں یہ سبق سکھایا جا رہا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے اب واحد راستہ بندوق ہی ہے۔ بھارت اور دیگر ممالک اپنے اپنے مفادات کے لیے اس سازش میں بڑے سرمایہ دار کے موجود ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ سارے پاکستان میں ایک مخصوص ٹولے کے علاوہ باقی سبھی پاکستانی محرومیوں کا شکار ہیں۔ اب اس بھیانک سازش سے نکلنے کے لیے انصاف کو فوراً حرکت میں آنا ہوگا۔ سچے دل سے سیاسی جماعتوں کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ کو تیز اور متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت اور امن کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے بلوچستان کے مقامی نوجوانوں کو اعتماد میں لیکر اپنے ساتھ خوشحالی و ترقی میں شامل کرنا ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔

Share or Like:

Fallow Us: