A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

یمن میں سعودی عرب کی کارروائی ، باغی سابق صدر نے ’حوثی باغیوں‘ کیخلاف کارروائی میں مشروط شمولیت کی پیشکش کردی

Last Updated:29-03-2015

صنعاء(مانیٹرنگ ڈیسک) عرب میڈیا نے انکشاف کیاہے کہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ایک صاحبزادے نے سعودی حکام سے رابطہ کرلیااور اُنہیں پیشکش کی کہ اگراُن کے والد کو عام معافی دینے کی یقین دہانی کرائی جائے تو وہ پانچ ہزار سپیشل سیکیورٹی فورس اور ایک لاکھ ریپبلیکن گارڈز سمیت حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں تاہم یہ پیشکش سعودی حکومت نے مستردکردی اور واضح کیاکہ منصورہادی یمن کے قانونی صدر ہیں ۔ عرب میڈیا کے مطابق تیس برس تک یمن میں بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والے علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی عبداللہ صالح نے ابتدائی ملاقات ریاض میں سعودی انٹلیجنس کے نائب سربراہ جنرل یوسف الادریس سے کی جس کے بعد احمد علی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بیٹے اور وزیر دفاع شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی۔ان ملاقاتوں میں صالح کے بیٹے سے اپنے والد اور خود اپنے لئے تحفظ کی درخواست کرتے ہوئے سابق صدر پر یو این کی پابندیاں ہٹانے کی درخواست کی اور حوثی باغیوں کیخلاف لڑنے کی پیشکش بھی کردی تاہم یہ پیشکش یمن میں شروع ہونیوالے سعودی آپریشن ”فیصلہ کن طوفان“ شروع ہونے سے دودن قبل کی گئی ۔ علی صالح کے بیٹے نے اپنے مطالبات تسلیم ہونے پر یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے والد کے دفادار پانچ ہزار سپیشل سیکیورٹی فورس اور ایک لاکھ ریپبلیکن گارڈز کے ذریعے حوثیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں گے تاہم یہ پیشکش سعودی حکام نے اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ سلمان نے احمد علی صالح پر واضح کیا کہ ان کا ملک خلیجی فارمولے پر عمل کا پابند ہے اور اسی کے تحت تمام یمنی فریقین کی رضامندی سے علی عبداللہ صالح کی اقتدار سے علیحدگی ممکن ہوئی، منصور ہادی یمن کے قانونی اور دستوری صدر ہیں۔

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں