A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Only variable references should be returned by reference

Filename: core/Common.php

Line Number: 257

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/pakist14/public_html/system/core/Exceptions.php:185)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 672

Pakistan News

اخبارات

اہم خبریں


آج سے ہزار سال بعد دنیا کیسی ہوگی ؟

آج سے ہزار سال بعد ہم او

اسلامی معاشرے کے خدوخال

دین اسلام تعمیر سیر ت و ک

16 دسمبر

16 دسمبر میں مون ہوں‘ نہی

سوات کی بیٹی

چلو کہ دشتِ جہالت کو خیر

عمران خان کے لیے

خان صاحب آپ نے 25 اپریل 1996

یا اللہ ہمیں بچالے

ارادوں اور بعض اوقات پخت

تحریکیں زور کیسے پکڑتی ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک

عمران خان او ر ڈاکٹر طاہر القادری

کالم نگار | رحمت خان ورد

راستہ بن چکا ہے : جاوید چوہدری

جولاہاکپڑے بُننے والوں ک

کچھ قادری صاحب کے بارے میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے دو

لاہور کینال اور موت کا خونی کھیل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہ

آ بیل مجھے مار

جاوید قاضی کسی زمانے میں

قرض پر مبنی معیشت

پاکستان جوکہ غربت کے منح

Meet Us

Name*
Email*
Message*

گوگا نے جان دے کر ایک ہزار افراد کو بچالیا

Last Updated:16-03-2015

لاہور: یوحنّا آباد کی سڑکیں عام طور پر ہمیشہ مصروف دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس اتوار کو یہاں پر ٹریفک معمول کی نوعیت کا نہیں تھا۔ حیرت، خوف اور غصہ یہاں کے رہائشیوں کے چہروں سے عیاں ہورہا تھا، اور اگرچہ ایسا لگتا تھا کہ ہر ایک اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلا ہوا ہے، لیکن ان گھروں میں سے ایک زید یوسف عرف گوگا کے گھر میں ماتم کیا جارہا تھا، گوگا مقامی تاجروں کی ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔ ان کی بیوہ اور دو بیٹیوں کی چیخیں گھر کی چاردیواری کے اندر گونج رہی تھیں، اور ان کے بھائی بیان کررہے تھے کہ گوگا کی موت کیسے ہوئی تھی۔ ریاض فضل کی آنکھیں سُرخ تھیں اور روتے روتے ان کے گال سوج گئے تھے، انہوں نے بتایا ’’جب دہشت گرد رومن کیتھولک چرچ پر پہنچے تو تین لڑکوں نے ان سے اپنی شناخت کروانے کے لیے کہا۔ انہوں نے ان میں سے دو لڑکوں کو بغیر کوئی جواب دیے گولی ماردی۔ لیکن گوگا نے انہیں روکا اور پیچھے کی طرف دھکیل دیا، اور اسی لمحے ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ چرچ کے اندر موجود ایک ہزار لوگوں کی زندگیوں کو بچاتے ہوئے گوگا شہید ہوا تھا، یہ لوگ اتوار کی آخری اجتماعی دعا میں شریک تھے۔ یوحنّا آباد مسیحی آبادی کا ایک بڑا علاقہ ہے، اور یہاں چھوٹے بڑے کئی چرچ موجود ہیں، لیکن یہاں کے رہائشیوں کو شکایات ہے کہ انہیں ناکافی سیکورٹی فراہم کی گئی ہے، خاص طور پر اتوار کے روز جب وہ اجتماعی طور پر گرجا گھروں میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ رومن کیتھولک چرچ پر حملے کے بعد دو دہشت گردوں نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن ہجوم نے انہیں پکڑ لیا، اور مار مار کر ہلاک کردیا، اس کے بعد ان کی لاشوں کو نذرِ آتش کردیا۔ دوپہر تک ان کی لاشیں سڑک پر پڑی جلتی رہیں، اور عوام اس لرزہ خیز منظر کی تصاویر اور وڈیوز بناتے رہے۔ ایک مقامی خاتون نے بیان کیا کہ’’ان دہشت گردوں کو جب پیٹا جارہا تھا، اس سے پہلے ایک موقع پر پولیس نے انہیں پکڑ لیا تھا۔ لیکن انہوں نے ہم پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا کہ ’تم مسیحیوں کو روزانہ دھماکوں میں ہلاک کیا جانا چاہیے‘۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ ہجوم کو دعوت دے رہے تھے۔‘‘ خاص طور پر ایسے افراد جو چرچ کے باہر تھے، انہوں نے شکایت کی کہ سیکورٹی کے لیے یہاں صرف تین پولیس اہلکار تعینات تھے، لیکن ان میں سے دو بھی قریبی دکان پر کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے۔ اس چر چ پر سیکورٹی کے فرائض ادا کرنے والے ایک رضاکار ایوب سردار کا کہنا تھا کہ یہاں تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاران کے لیے کبھی کافی نہیں رہے ہیں، اور انہیں ہمیشہ اپنے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہمارے لیے کسی باہر کے شخص کو شناخت کرنا آسان ہوتا ہے، اس لیے کہ ہم اپنی برادری کے لوگوں کو جانتے ہیں۔‘‘ چرچ کا نیلے رنگ کا گیٹ دھماکے سے اُڑ گیا تھا، اور اس کے بعد مسیحی برادری کے رضاکاروں نے ایک انسانی زنجیر بنالی تھی۔ وہ گیٹ کے ساتھ کھڑے ہوکر سڑک پر موجود ہجوم کو اندر آنے سے روکتے رہے۔ اب تک لوگ اپنی عبادت گاہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ دوسرا چرچ جس پر اس سے چند لمحے پہلے حملہ کیا گیا تھا، اس کو قدرے کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسیحی چرچ کے پادری ارشاد اشک ناز کہتے ہیں کہ ’’ہمارے پاس لوہے کا ایک گیٹ تھا، جس نے خوش قسمتی سے ان لوگوں کو اندر آنے سے روکے رکھا۔ لیکن انہوں نے پہلے چرچ کے گیٹ کو گرانے کی کوشش کی، اور جب ان سے ایسا نہیں ہوسکا، تو پھر وہ دوسرے گیٹ کی طرف چلے گئے، جو چرچ کے اسکول کا داخلی راستہ ہے، انہوں نے اس کو اُڑانے کی کوشش کی۔ وہ موٹرسائیکل پر آئے تھے۔‘‘ پادری نے سوال کرتے ہوئے کہا ’’ہم خود کو زیادہ سے زیادہ کیا سیکورٹی فراہم کرسکتے ہیں؟ ہم نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد دیواروں پر خاردار تار لگادیے ہیں، اور اس سے ہمیں مدد ملی ہے۔‘‘ غم و غصے کے عالم میں مقامی لوگ حکومت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا ’’یہ شہباز شریف کا حلقہ انتخاب ہے۔ نہ تو وزیراعلیٰ اور شہلا طارق اور شکیل مارکوس کھوکھر سمیت اس علاقے کے کسی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے یہاں کسی قسم کا کوئی ترقیاتی کام کروایا، اور نہ ہی ان میں سے کسی نے یہاں کا دورہ کیا۔‘‘ پادری جاوید کا کہنا تھا ’’ہم پریشانی کے عالم میں ہیں، اس لیے کہ ہمیں جو نمائندے دیے گئے، انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، اور دوسری جانب ہم اپنے نمائندوں کو خود منتخب نہیں کرسکتے، اس لیے کہ اقلیتی نمائندے ہمارے لیے ہمیشہ سے منتخب کیے جاتے رہے ہیں۔ تقریباً تمام بنیادی سہولیات ہمیں ہمارے چرچوں کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں، ورنہ ہمیں نہ تو ڈسپنسریاں، نہ ہی صحت کی سہولتیں، نہ صاف پانی تک ہماری رسائی ہے اور نہ ہی سیوریج کا مناسب انتظام ہے۔ یہاں تک کہ سڑکیں بھی کچی اور تارکول کے بغیر ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ہمارے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں نہیں ملتیں۔ جب وہ کام کرنے کے لیے جاتے ہیں تو انہیں صرف صفائی کے کاموں کی پیشکش کی جاتی ہے۔‘‘ ایک خاتون نے غصے کے عالم میں پولیس پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر شراب پینے کے الزام کا بہانہ لے کر ہمارے نوجوانوں کو تنگ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’میں یہ جاننا چاہوں گی کہ وہ ساری رقم کہاں چلی گئی، جس کے بارے میں ہمارے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہاں ترقیاتی کاموں پر خرچ کی ہے۔‘‘ افسوس کا مقام ہے کہ گوگا خود حکمران مسلم لیگ ن کا ایک بڑا حمایتی تھا۔ ’’وہ عام طور پر ہمیں پی ایم ایل این کو ووٹ دینے کے لیے کہتا تھا اور ہم نے ہمیشہ اس کی بات مانی تھی، لیکن اب اس پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد کیا کررہی ہے۔ ہم اپنے گھروں کے اندر بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔‘‘ گوگا کے بھتیجے ظفر اقبال جو اس وقت اپنے چچا کی میت کا انتظار کر رہے تھے، نے بتایا ’’مسیحی برادری کو حقارت اور بے عزتی کے ساتھ دیوار سے لگادیا گیا ہے۔ ہماری اپنی کمیونٹی کی حفاظت کے لیے ایک شخص کی جان چلی گئی۔ ان کی وجہ سے آج ایک ہزار لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے۔‘‘

Share or Like:

Fallow Us:

مزید خبریں